پہلی اننگ میں جلدآؤٹ ہوناہار کا سبب بنا:کک
موہالی،29نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے آج انکشاف کیا تیسرے ٹیسٹ کرکٹ میچ میں ٹاس اور اچھے وکٹ پر پہلے بیٹنگ کا موقع گنوانے کے بعد جیت درج کرکے ان کی ٹیم کو اضافی حوصلہ ملا۔ہندوستانی حالات میں ٹاس جیت کر پہلے دن بلے بازی کرنا بہت فائدہ مند سمجھا جاتا ہے لیکن ہندوستانی ٹیم نے اس کے باوجود آٹھ وکٹ سے جیت درج کی۔کوہلی نے پانچ میچوں کی سیریز میں 2-0سے برتری بنانے کے بعد کہا کہ کوئی بھی پچ ٹرن لینے والی نہیں ہے۔ہندوستانی کپتان ٹاس کے بعد انگلینڈ کے شائقین کی رائے پر حیرانی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف اچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں،ہمارا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے، ہم نے ٹاس گنوا دیا لیکن انہیں 280کے ارد گرد آؤٹ کر دیا۔جب انہوں نے ٹاس جیتا تو میں ناظرین کے جوش و خروش سے حیران تھا،ہم نے دکھایا کہ ہم اس وقت بھی میچ جیت سکتے ہیں،اصل میں اس سے ہمیں ترغیب ملی ہے۔انہوں نے تینوں اسپنروں روی چندرن اشون، جینت یادو اور روندر جڈیجہ کی جم کر تعریف کی جنہوں نے نچلے آرڈر میں اچھی بلے بازی بھی کی۔کوہلی نے کہا کہ نچلے آرڈر کے بلے بازوں کی شراکت شاندار کامیابی ہے،اس سے مخالف ٹیم بیک فٹ پر چلی گئی۔اشون چمپئن ہے،وہ نمبر ایک آل راؤنڈر ہے،جڈیجہ ٹاپ10 میں ہیں اور جینت نے اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز میں پختگی دکھائی ہے، وہ مجھے اپنے من پسند فیلڈنگ کے لیے کہتا ہے۔
انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک نے کہا کہ پہلی اننگز میں 283رنز پر آؤٹ ہونے سے ان کی ٹیم کو جھٹکا لگا۔انہوں نے کہاکہ ٹاس جیتنا اچھا تھا لیکن اگر آپ 280رنز پر آؤٹ ہو جاتے ہو تو آپ میچ نہیں جیت سکتے،اس پچ پر آپ کو کم سے کم 400رنز کی ضرورت تھی،ہمیں پچھلی بار کا علم تھا جب ہم نے ان کو 300رنز پر آؤٹ کرکے جیت درج کی تھی۔مین آف دی میچ جڈیجہ نے کہا کہ وہ اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ہندوستان کی پہلی اننگز میں 90رنز بنانے والے جڈیجہ نے کہا کہ یقینی طور پر میں اپنی کارکردگی سے خوش ہوں،بالخصوص بلے سے کی کارکردگی سے۔انہوں نے کہا کہ میں جانتا تھا کہ گیند ٹرن نہیں لے رہی ہے،میں نے کریز پر تھوڑا سا وقت گزارا،میں جانتا تھا کہ اگر میں 40.50گیند کھیل لوں گا تو بڑی اننگز کھیل سکتا ہوں، میں جانتا تھا کہ بعد میں رن بنانا آسان ہو سکتا ہے،میں سوچ رہا تھا کہ مجھے آف اسپنر کے خلاف کوئی خطرہ نہیں لینا ہے،میں نے لیگ اسپنر کے سامنے خطرہ لیا،بدقسمتی سے گیند سست تھی اور وہ بیٹ پر صحیح طرح سے نہیں آ پائی۔جڈیجہ نے کہا کہ اگلی بار جب میں 90پر پہنچ جاؤں گا تو زیادہ محتاط رہوں گا،پچ سے ٹرن نہیں مل رہا تھا تو میں کسی ہوئی گیند بازی کرنی پڑی۔